ابنا: ایران کی ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے اس سلسلے میں نامہ نگاروں کی جانب سے کئے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اراک کا ری ایکٹر بدستور باقی رہے گا البتہ اس میں تیکنکی تبدیلیوں کے مسئلے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایسے میں ہے کہ ایران کے ایٹمی ادارے کے حکام سے ملاقات کیلئے ایٹمی توانائی کی بین الاقومای ایجنسی کے سیف کارڈ امور کے ایک عہدیدار، ایران کے دورے پر جمعے کی رات تہران پہنچے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ایران اور آئی اے ای اے نے گذشتہ سال گیارہ نومبر کو چھے مسائل کے حل کیلئے ایک سمجھوتے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت بندر عباس میں گچین اور اراک میں بھاری پانی کے ری ایکٹر کا معائنہ، عمل میں آیا تھا اورطے پایا تھا کا ایران اور آئی اے ای کے درمیان اس سلسلے میں پائے جانے والے ابہامات دور کرنے کیلئے اّکیس جنوری کو مذاکرات ہوں گے مگر جنیوا سمجھوتے پر عملدرآمد کا وقت ٹکرانے کی بناء پر ان مذاکرات کو آٹھ فروری پر موکول کردیا گیا تھا۔
.......
/169